Home >> خاص مضمون,شوخی تحریر >> ’یہ کائنات ایٹم سے نہیں بلکہ کہانیوں سے بنی ہے۔‘

منٹو نے کبھی ادب نہیں لکھا ، منٹو ادب لکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے پاس خوبصورت الفاظ تھے ہی نہیں ، وہ الفاظ کے پیچھے جال لئے بھاگتا تھا جیسے کوئی ننھا بچہ تتلیوں کے پیچھے بھاگتاہے ، لیکن وہ اس کے قابو سے باہر ہوتی ہیں ۔
اسی لیے اس نے سماج لکھا ۔ وہ سماج لکھ سکتا تھا، کیونکہ جب وہ پیدا ہوا تھا اس وقت سماج کو بھی ایک ایسے بیدار مغز اور حساس طبیعت شخص کی ضرورت تھی جو اس وقت کے ماحو ل کا ایکسرے کرے ، ای سی جی کرے اور اخلاقی ، سماجی اور سیاسی طور پر انتہائی حد تک خراب ہو چلے سماج کے خون کی جانچ کرے ۔ تو ایک طرف جہاں ادیبوں نے کہانیاں لکھنی شروع کیں اور قلم کاغذ خریدیں ، وہیں منٹو نے پیتھالوجی لیب کھول دیا اور اب اس کا کام تھا کہ وہ واقعہ اور حادثہ کا جائزہ لے اور اسے من وعن اپنی رپورٹ میں پیش کرے۔
آپ اسے اس وقت کا نڈر صحافی بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو وہ دیکھ رہا تھاوہی لکھ رہا تھا ، پورے اطمنان کے ساتھ۔
وہ ادیب تو تھا ہی نہیں۔
ہاں وہ ایک بے رحم انسان ضرور تھا، جسےلوگوں کے دکھوں اور تکالیف کو حسین کر کے پیش کرنے کا فن نہیں آتا تھا، بلکہ وہ اس کرب کو محسوس کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس ملک کی اشرافیہ بھی اس کے دکھوں کو محسوس کرے۔ مگر انہیں نفرت کے سوا کچھ نہیں ملا۔
یورپ میں منٹو خوب پڑھا جاتا رہا۔ برصغیر میں بوڑھے اسے چھپ کر ، جوان اسے گالیاں دے کر اور نوجوان اسے پلے بوائے کے زمرہ میں رکھ کر پڑھتے رہے اور اس بات پر بھی بحث کرتے رہے کہ منٹو نے فحاشی کو رائج کیا اور وہ ایسا اس لیے کہتے تھے کہ منٹو کے پاس الفاظ نہیں تھے ۔ اس لئے وہ پستان کو مونگ پھلی کی ڈلی نہیں لکھ پایا۔ اور وہ عصمت چغتائی کی طرح لحاف کے اندر کی بات لحاف تک محدود نہیں رکھ پایا۔
جج صاحبان کہتے کہ آپ کے افسانے جنسی تلذز کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ آپ نسائی کرداروں کے کپڑے اتارتے ہیں ، اور منٹو ہنستا تھا کہ اس نے سوگندھی ، سکینہ ، سلطانہ ،کلونت کور اور موذیل جیسی عورتوں کو تو کپڑا پہنایا ہے جسےسماج نے اس کے جسم سے نوچ نوچ کر پھینک دیا تھا۔ وہ تو وکیل تھا ان مجبور و بے بس عورتوں کا جو سماج کے مظالم کا شکار ہوئیں اور اور جس کی چیخیں غیر منصفانہ سماجی عدالت کی پر اسرار تاریکیوں میں کھو گئیں اورانہیں مجبوراً خارش زدہ کتے کی پناہ میں چین لینا پڑا۔
منٹو نے کیا منہ توڑ جواب دیا تھا ’ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔‘ اگر میری کہانی کو برداشت کرنے کی ہمت آپ میں نہیں ہے تو یہ سماج یقیناً ناقابل برداشت ہے۔ منٹو کا دوسرا جملہ تھا۔
تاریخ کے اس جبر و تشدد اور استحصال کے دستاویز کوہم سب منٹو کی کہانیاں کہتے تھے ، کیونکہ ٹوبہ سنگھ ہی اکیلا تھا جو نو مینس لینڈ میں مرا ، ورنہ لاکھوں انسان ہندوستان اور پاکستان کے نام پر مارے گئے۔ اگر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مان لی گئی ہوتی تو ہم اکھنڈ بھارت ہوتے ہیں۔ مگر ماننے کی تو چھوڑئے سکینہ کے درد کو ، اس کی نفسیات کو سمجھ پاتے اور اس پر اسی وقت رولئے ہوتے تو نربھیا کبھی نہیں ماری جاتی اور ٹھنڈا گوشت سے کچھ سبق ملتا تو آج لاتعدادریپسٹ عہدہ بر آ نہیں ہوتے۔ اگر منٹو کے فساد کی رپورٹ پر کارروائی کرنےکی جرآت کی گئی ہوتی تو آج فسادیوں کے گلے میں پھول مالائیں نہیں پہنائی جاتیں۔ منٹو کے قلم سے رپورٹیں نکلتی رہیں اور سرکارو ںنے اس پر کمیشن بنانا بھی ضروری نہیں سمجھا ، کیونکہ یہ ثابت کر دیا گیا کہ وہ کہانیاں تھیں ، اس کی بے باک رپورٹس کو کہانیاں مان لیا گیا اور کہانیوں پر کارروائیاں نہیں ہوا کرتیں۔
آج بھی ہمیں بتایا جا رہا کہ منٹو کہانیاں لکھا کرتا تھا۔ نندیتا داس نے بھی ان کی کہانیوں پر کہانی بنانے کی کوشش کی ہے۔
منٹو پر پاکستان میں بھی فلمیں بنیں اور کئی سیریلس بھی ۔ منٹو کو سمجھنے کے لیے اسے پڑھنا پڑتا اور اسے پڑھنے کے لیے پھر بہت کچھ پڑھنا پڑتا ۔ اسے تاریخ پڑھنی ہوتی اور جغرافیہ بھی اور اگر سائیکالوجی نہیں پڑھی ہے تو منٹو سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا سائیکیٹرک تھا۔ اس نے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا اور اسی لیے اس کی کہانیاں جسے کہانی نہ کہا جائے تو بہتر ہے ، حکومت وقت اور منصف دوراں کو اچھی نہ لگیں ۔ وہ باغی ہوتا تو اسے جیل کی ہوا کھلانا آسان ہوجاتا، لیکن وہ باغی تو تھا ہی نہیں وہ اس وقت کا ’سنجے ‘تھا جو میدان جنگ سے حکومت کے لیے رپورٹنگ کر رہا تھا اور ’دھرت راشٹر‘ بنے سرکار کے اعلیٰ کار صرف یہ کہہ پا رہے تھے کہ ’ یہ سب کیا ہو رہا ہے‘۔
اور وہ سب اب بھی ہو رہا ہے۔ نندیتا داس حساس اور باشعور فنکار ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ میری فلم کو دو اسٹار یا تین اسٹار ضرور ملے لیکن کم از کم سرکار کے ٹھیکیدار ایک بار پھر سے منٹو کی رپورٹ پڑھ تو لیں۔ منٹو اسٹار تھا۔ اس کی رینکنگ کوئی نہیں کر سکتا۔
آج کے اس دور میں منٹو کو پردہ پر کھینچ کر لانا بڑی ہمت کا کام ہے ۔ اس کے لیے نندیتا داس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ ان کے حوصلہ کو سلام۔ اور نواز الدین صدیقی۔ کمال ہے بھائی ۔ منٹو بننا یا منٹو جیسا دکھنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے ، لیکن نواز بھائی مان گیا آپ کو دشرتھ مانجھی بن کر آپ نے پہاڑ توڑ ڈالے اور منٹو بن کر آپ نے اداکاری کے رکارڈ توڑ ڈالے۔’شاندار ، جبردست، جندہ باد‘ ۔اور ہاں جاوید اختر صاحب کو بھی منٹو نے اداکار بنا دیا ، رشی کپور بوڑھاپے میں کمال کر رہے ہیں۔ فلم میں صفیہ یعنی رسیکا دگل کو دیکھ کر اچھا لگا، اور عصمت کا رول نبھاتے راج شری دیش پانڈے بھی اچھی لگیں ۔
پرواہ نہیں فلم نہیں چلی اور چل بھی جاتی تو کیا ہوتا۔ منٹو کا مقصد تو کبھی پورا ہو نہیں سکتا۔ جس سماج کی برائیوں کے خلاف منٹو نے قلم اٹھایا وہ برائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں ، لیکن احتجاج کی آواز بھی نکلتی رہے خواہ وہ سنیما گھروں سے ہی کیوں نہ ہو۔تاکہ سند رہے کہ کچھ لوگ ظلم کے خلاف تھے اور اب بھی ہیں۔
زین شمسی

the author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top