Home >> Breaking News,کھیل کھلاڑی >>  جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھا
محمد التجا عثمانی
 کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشتگردی کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا دورہ نیوزی لینڈ منسوخ کر دیا گیا ہے اور بنگلہ دیش کی ٹیم دورہ نیوزی لینڈ سے وطن واپس لوٹ گئی نیو۔زی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ ہونا تھا۔واضح رہے نیوزی لینڈ کی 2مساجد میں فائرنگ سے 48 افراد جاں بحق اور60 سے زیادہ زخمی ہو گئے جب کہ دورے پر موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بھی اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ بنگلادیشی کرکٹ ٹیم کے اوپنر تمیم اقبال نے کہا کہ ٹیم حملے کے وقت مسجد میں موجود تھی اور اسی دوران ٹیم کے ارکان نے مسجد سے بھاگ کر جان بچائی۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے کہاہے کہ انہوں نے جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھا، 3 منٹ پہلے بھی مسجد پہنچے ہوتے تو بچ نکلنا ناممکن تھا۔ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ پوری ٹیم حملے میں محفوظ رہی، یہ بہت خوفناک تجربہ تھا، براہ مہربانی ہمیں اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشفق الرحیم نے کہا کہ کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیںمحفوظ رکھا، ہم بہت خوش قسمت ہیں اور دوبارہ اس طرح کا واقعہ دیکھنا نہیں چاہتے۔   بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مشہود نے کہا کہ کرائسٹ چرچ حملے کے وقت وہ اوران کے ساتھی کھلاڑی مسجد سے صرف 50 گز کے فاصلے پر تھے،اگر 3 منٹ پہلے بھی مسجد پہنچے ہوتے توان کا بچ نکلنا ناممکن تھا۔معمولی سا فاصلہ ان کی جان بچانے کا باعث بن گیا۔خالد مشہود نے کہا کہ انہوں نے جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھاجبکہ کچھ کھلاڑی وہ منظر دیکھ کر رو پڑے۔بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مشہود نے مزید کہا کہ ٹیم کے 17 افراد 8 سے 10 منٹ تک بس میں اپنا سر نیچے کیے بیٹھے رہے تاکہ کوئی گولی انہیں نہ لگ جائے۔پھر سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ شوٹر انہیں نشانہ بنا سکتا ہے، بہتر ہے کہ یہاں سے بھاگ نکلیں۔کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے کہا کہ مسجد جاتے وقت بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں تھا۔جس وقت مسجد میں یہ حملہ ہوا، مکمل بنگلہ دیشی ٹیم اپنی بس میں موجود تھی اور اس واقعہ کی عینی شاہد بھی بنی۔ کھلاڑیوں کو پہلے کچھ دیر تک بس میں ہی روک دیا گیا، لیکن پھر تمام بس سے اتر کر بھاگتے ہوئے گراؤنڈ تک پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد کھلاڑیوں کو واپس ان کے ہوٹل لے جایا گيا جس وقت بنگلہ دیشی ٹیم جمعہ کی نماز کے لئے مسجد جا رہی تھی ٹیم کا کوچنگ عملہ ہوٹل میں ہی موجود تھا جبکہ ٹیم کے ہیڈ کوچ اسٹیو روڈس گراؤنڈ پر موجود تھے۔ لٹن داس اور نعیم حسن بھی اس وقت ہوٹل میں موجود تھے جنہیں فون کر کے ہوٹل میں ہی رکنے کی جانکاری دی گئی۔ بحر حال کرکٹ سیریز منسوخ کردی گئی ہے ۔  اگر دیکھاجائے تو  دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان پاکستانی کرکٹ کوہوا۔سری لنکائی ٹیم پر حملہ کے بعد کرکٹ کے عالمی ادارے نے پاکستان میں عالمی کرکٹ پر پابندی عائد کر دی تھی ۔دنیا کی بیشتر کرکٹ ٹیموں نے بھی اس کے بعد پاکستان میں اپنے ٹیموں کو بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور کھلاڑی بھی پاکستان آنے سے  انکار کرنے لگے تھے۔ ان کی تقلید میں بیشتر کھیلوں کے مقابلے پاکستان میں منعقد ہونے بند ہو گئے اور پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل تاریک ہوگیا۔دیکھنا تو یہ ہے کہ اب عالمی ادارہ کرکٹ اس کو بنیاد بنا کر کیا نیوزی لینڈ پر کرکٹ اور کھیلوں کے دروازے بند کرے گا یا وہاں دوسرا معیار ہوگا ۔
ویسے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں جس سے کرکٹ میچز یا سیریز منسوخ ہوئی ہو۔۔ ماضی میں دنیا بھر میں شدت پسندی اور مسلح حملوں کے کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ میچز ملتوی یا منسوخ ہوئے۔
 لاہور میں زمبابوے کی ٹیم کے دورہ کے دوران خودکش حملہ:۔
30 اپریل 2015 ءکو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں زمبابوے اور پاکستان کے درمیان دوسرے ون ڈے کے دوران اسٹیڈیم کے باہرخود کش حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ زمبابوے کی ٹیم لاہور میں سری لنکن ٹیم پر 2009 ءمیں ہونے والے حملہ کے بعد پاکستان آنے والی پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی۔ تاہم حملے کے باوجود دورہ جاری رہا اور زمبابوے کی ٹیم نے 3 میچوں پر مشتمل مختصر دورہ مکمل کیا۔
لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ:۔
3 مارچ 2009 ءکو لاہور میں پاکستان کے دورے پر موجود سری لنکن ٹیم کی بس پر شدت پسندوں نے کیا جس میں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے جن میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے7 کھلاڑی بھی تھے۔ اس حملے کے 10 سال بعد بھی پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔
 ممبئی حملہ اور انگلینڈ کی ٹیم کی واپسی:۔
26 نومبر 2008 ءکو ممبئی میں ہونے والے حملے میں 170 افراد ہلاک ہوگئے۔ ممبئی حملے کے دوران ہندکے دورے پر آئی ہوئی انگلینڈ کی ٹیم نے دورہ ادھورا چھوڑ کر واپسی کی راہ لی تاہم انگلش ٹیم نے بعد میں واپس آکر دورہ مکمل کیا۔ ِ
آسٹریلیا کی ٹیم کے دورہ سے پہلے نئی دہلی میں 5 بم دھماکے:۔
 13 ستمبر 2008 ءکو آسٹریلیا کی ٹیم کے دورہ ہند سے صرف ایک ہفتہ پہلے دہلی کے پرہجوم بازار میں5 دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔ تاہم ابتدائی خدشات کے باوجود آسٹریلیا کا دورہ شیڈول کے مطابق ہوا۔
کراچی میں دھماکے کے بعد نیوزی لینڈ دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس:۔
مئی 2002 ءمیں کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر دھماکہ ہوا جس میں نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی ٹھہری ہوئی تھی۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹیسٹ میچ کھیلنے کےلئے ہوٹل سے نیشنل ا سٹیڈیم کیلئے نکل رہی تھی۔ دھماکے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی۔
آسٹریلیا کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ:۔
 نیویارک میں 11 ستمبر 2001 ءکے حملوں بعد خطے اور پاکستان میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آسٹریلیا نے اگست 2002 ءسے شروع ہونے والا اپنا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے دورہ سری لنکا کے دوران کولمبو میں دھماکے:۔
24 جولائی 2001 ءکو نیوزی لینڈ کے دورہ سری لنکا کے دوران کولمبو انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب بم دھماکے میں 14 لوگ ہلاک ہوگئے۔ تاہم اگلے دن نیوزی لینڈ نے سری لنکا کے خلاف میچ انتھائی سخت سکیورٹی میں کھیلا۔
آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا سری لنکا میں ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار:۔
11 فروری 1996 ءکو کولمبو میں ایک خوفناک بم دھماکے میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے سری لنکا میں عالمی کرکٹ کپ کے میچز سری لنکا کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس سے انھیں پوائنٹس بھی کھونے پڑے تھے۔
1992 میں نیوزی لینڈ کے دورہ سری لنکا کے دوران دھماکے:۔
16 نومبر 1992 کو سری لنکا کے دورہ پر موجود نیوزی لینڈ کرکٹ کے ہوٹل کے باہر تامل ٹائیگرزکے دھماکے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ٹیم کے5 کھلاڑی اور کوچ دھماکے کے بعد نیوزی لینڈ فورا واپس وطن چلے گئے۔
1987ءمیں نیوزی لینڈ نے دورہ سری لنکا ادھورا چھوڑ دیا
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 1987 ءمیں سری لنکا کا دورہ کیا، کولمبو کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والا پہلا میچ ڈرا ہوا جبکہ دوسرا اور تیسرا میچ سری لنکا میں حالات خراب ہونے کے باعث نہ ہوسکے۔ بعد میں کولمبو میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ہوٹل کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 113 افراد کی ہلاکت کے بعد دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی۔
 کیوی فٹبالر کا میدان میں سجدہ
کرائسٹ چرچ کے شہدا اور مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لیے نیوزی لینڈ کے ایک غیرمسلم فٹ بالر نے حریف ٹیم کے خلاف گول کرنے کے بعد روایتی جشن منانے کے بجائے میدان میں ہی سجدہ کیا۔
کوسٹابارباروسز کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کو انڈہ مارنے والے لڑکے ول کونلی کے بعد وہ دوسرے ایسے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں جنہوں نے مسلمان مخالف دہشت گردی کے خلاف کھل کر اظہار کیا ہے۔ملبورن کے مارول اسٹیڈیم میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب فٹ بال میچ کے 24 ویں منٹ میں کوسٹا باربروسز نے مخالف ٹیم کے خلاف گول کیا۔ گول کرنے کے بعد وہ کچھ دوڑے اور پھر ہزاروں تماشائیوں کے سامنے سجدے میں چلے گئے۔میچ کے بعد فوکس اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کوسٹا نے کہاکہ ان کی جانب سے سجدہ شاید متاثرین کیلئے کوئی زیادہ معنے نہ رکھتا ہو، لیکن اس میں کچھ ہے۔فٹ بالر کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں جو ہوا اس نے انہیں دہلا کر رکھ دیا ہے، وہ بہت جذباتی ہو رہے ہیں۔کوسٹا نے ٹوئٹر پر بھی لکھا کہ میری دعائیں اس سانحے میں اپنی جانیں گنوا دینے والے افراد اور ان کے پیاروں کے ساتھ ہیں، یہ ہماری تاریخ کا بہت افسوسناک دن تھا۔کوسٹا بارباروسز نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ہی پیدا ہوئے۔ ان کے والدین یونانی نژاد ہیں۔ وہ آسٹریلیوی فٹبال کلب میلبورن وکٹری کیلئے کھیلتے ہیں۔ جس میچ میں کوسٹا بارباروسز نے سجدہ کیا وہ آسٹریلیا میں جاری پریمیئر اے لیگ کا حصہ تھا۔
دنیا بھر سے مسلمان سوشل میڈیا صارفین نے نیوزی لینڈ کے فٹ بالر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔سیدہ صبا نے لکھا کہ ’’حیران ہوں کہ دنیا میں انسانیت ابھی باقی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایک غیرمسلم فٹ بالر کرسٹا بارباروسز نے کرائسٹ چرچ میں قتل کیے گئے مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سجدہ کیا ہے۔‘‘انڈونیشیا کے کئی لوگوں نے کوسٹا کے لیے احترام اور محبت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ فٹ بال فیڈریشن نے تصدیق کردی ہے کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں 33سالہ نیشنل فٹبال پلیئر عطاعلایان بھی اپنی جان کی بازی ہار گئے ۔ انہیں بطور گول کیپر 19انٹر نیشنل میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع ملا۔ انہوں نے اہلیہ فرح اور چھوٹی بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے ۔
کرکٹرز کی نیوزی لینڈ مساجد پر دہشتگرد حملے کی مذمت، واقعہ المناک قرار
نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں ہونے والے حملے کے بعد دنیائے کرکٹ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے اس واقعے کو المناک قرار دے دیا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور مارے جانے والوں کے لیے دعائیں کیں۔خیال رہے کہ مذکورہ حملہ 15 مارچ کو کرائس چرچ کی ایک مسجد میں ہوا جس میں مسلح حملہ آور نے مسجد میں گھس کر فائرنگ کردی جس سے 49 نمازی شہید ہوگئے تھے۔اس حملے سے کے بعد دنیائے کرکٹ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔
سابق کپتان اور سری لنکا کے لیجنڈ بلے باز کمار سنگا کارا نے بھی کرائس چرچ واقعے کی مذمت کی ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم ہوتے ہی بہت دکھ ہوا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سنگا کارا کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔
 ہندوستانی  کپتان ویراٹ کوہلی نے اس واقعے کو المناک قرار دیا واقعے میں اپنی جان گنوانے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی اظہار ہمدردی کیا۔ہندوستان کے سابق کرکٹر محمد کیف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے میں مارے جانے والے 49 افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔
کیوی ٹیم کے کپتان کین ولیم سن نے سانحہ کرائسٹ چرچ کے شہداء کو قومی نشان کے ذریعے اجاگر کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے ہم وطنوں کی طرح وہ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آپس میں پیار و الفت کی ضرورت آج سے زیادہ پہلے کبھی نہ تھی اور وہ متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی اور نیوزی لینڈ میں ہر دکھی شخص کیلئے بھی ان کا پیغام صرف محبت ہے اوریہ سب کے ایک ہوجانے کا وقت ہے۔
پاکستانی نژاد آسٹریلین کھلاڑی عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ انہیں کرائس چرچ حملے کا بہت دکھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی تمام ہمدردیاں اور دعائیں واقعے میں مارے جانے والے افراد کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بوم بوم آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائس چرچ میں ہونے والا حملہ بہت دہشت ناک ہے،
ان کا کہنا تھا کہ میں نے نیوزی لینڈ کو دنیا میں سب سے محفوظ اور پر امن ملک پایا ہے، یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔اسٹار آل راؤنڈر نے متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے سے نفرت بند کی جائے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔انہوں نے کرائس چرچ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔
اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس دہشت گرد حملے کو انتہائی المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ہمدردی ہے۔
پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ نے کہا ہے کہ انہیں اس دہشت گرد حملے کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی ہمدردیاں اور دعائیں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ہین۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے وین پارنیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد حملہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں اور دعائیں مارے جانے والوں کے ساتھ ہیں۔آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹ فواد احمد نے کرائس چرچ کی مسجد میں مارے جانے والے افراد کو ’شہید‘ قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

the author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top