Home >> Breaking News,آئینہ ادب,انداز سخن >> لولی لنگڑی سوچ

عارف رمضان
مارکیٹ کے ساتھ والے شادی ہال کے گیٹ پر رش لگا ہوا تھا۔ سڑک سے گزرنے والے کافی دیر سے پھنسے ہوئے تھے۔ میں بھی وہیں تھا۔ موٹرسائیکل کا پٹرول بھی ختم ہونے کو تھا۔ جانے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس پریشانی میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ دل ہی دل میں سڑک کنارے شادی ہال بنانے والوں کو برا بھلا میرے علاوہ بھی کئی لوگ کہہ رہے تھے۔ اتنے میں آواز سنائی دی ’’دیکھ یار کیا پیس جارہے ہیں؟‘‘ پیس! میں نے فوراً دیکھا ۔ ’’لیگ پیس‘‘ ہوگا مطلب کھانے کا کوئی آئٹم ۔ مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ میں نے لڑکوں کی نظر کا تعاقب کیا۔ نوجوان لڑکیوں کا جھرمٹ شادی ہال کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اوہ! مطلب ان لڑکیوں کو پیس کہا جارہا تھا۔ بات تو ان کی بھی درست تھی۔ خوبصورتی کمال تھی۔ اب قدرتی تھی یا مصنوعی مگر تھی ضرور۔ خیر سے شادی ہال کا گیٹ بند ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے رش بھی ختم ہونے لگا اور ہمارے جیسوں کو بھی راستہ مل گیا۔ بعد میں عقدہ کھلا کہ یہ رش بھی مصنوعی خوبصورتی کی طرح مصنوعی تھا۔ مطلب زمینی حسیناؤں نے ہی ان منچلوں کو وہاں بریک لگانے اور رش پیدا کرنے پر مجبور کیا ہوا تھا۔

بھنورے ہوا ہوچکے، رش ختم ہوچکا تھا، میں بھی آگے بڑھ گیا، مگر دماغ ’’پیس‘‘ والے لفظ اور ان خوب صورت لڑکیوں میں اٹکا رہ گیا۔ یہ سب کچھ نیا نہیں بلکہ عام سی بات تھی۔ پبلک مقامات جیسے ساحل، پارکس، قدرتی یا مصنوعی تفریح گاہیں اور اب تو بازار، جہاں بھی کلیاں نظر آئیں وہاں بھنورے منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں اور ان بھنوروں سے رش میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

اس میں قصور کس کا تھا، لڑکوں کا یا میک اپ زدہ چہروں کا۔ لڑکے اور مرد ہی قصوروار ہیں۔ آخر کو تربیت بھی کسی چیز کا نام ہے۔ اگر ان کو گھر سے تربیت ملی ہوتی تو وہ کبھی ایسے ان معصوم بھولی بھالی لڑکیوں کو کیوں دیکھتے۔ ان لڑکوں کو شرم آنی چاہیے کسی کی بہن بیٹی کو یوں سرعام تاڑتے ہوئے۔ مان لو وہ فل میک اپ کرکے، خود کو بنا سنوار کے، مہنگی ترین خوشبو لگا کر اور دوپٹہ گلے میں لٹکا کر گھر سے نکل ہی آئی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب انہیں یوں تنگ کیا جائے یا گھورا جائے۔

خوبصورتی اور خوشبو جتنی بھی چھپائی جائے، کہاں چھپتی ہے۔ اب وہ معصوم اپنی خوبصورتی کیسے چھپائیں۔ ان کو مجبوراً اپنا آپ دکھانا ہی پڑ جاتا ہے۔ پھر کیا ساری تربیت ان کے کھاتے میں ہے۔ مردوں کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچے رکھیں۔ جہاں چار لڑکیاں دیکھیں، رش لگ گیا۔ کم کپڑے پہن کر اگر کوئی آ بھی گئی ہے تو ہوسکتا ہے ان کے پاس کپڑے نہ ہوں، سلائی کے وقت چھوٹے پڑگئے ہوں۔ ایک طرف غربت اور مہنگائی نے کپڑے تک کے پیسے نہیں بچائے، اوپر سے ان پر مردوں کی گندی گندی نظریں، کبھی سوچا وہ بے چاریاں منوں مٹی میں دھنس جاتی ہوں گی۔ ویسے بھی ایسی لڑکیاں بے چاری بہت ہی غیرت مند ہوتی ہیں۔ سب کو لگتا ہے یہ فیشن ہے، حقیقت میں ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ کئی بار تو دیکھا گیا کہ ان کے گھٹنے کے پاس پینٹ پھٹی ہوئی ہوتی ہے مگر وہ پھر بھی پہن لیتی ہیں۔ کئی بار بازو پھٹے ہوتے ہیں مگر وہ کیسے پہنتی ہیں، یہ کون سمجھے۔ ایسے مردوں کی اس لولی لنگڑی سوچ پر دو حرف بھیج کر آگے نکلتے ہیں۔

چائے کے ہوٹل پر بیٹھتے ہی میرے ایک دوست نے کہا پردے پر اتنی بحث کی ضرورت نہیں۔ جو کرتی ہیں وہ کریں، کس نے روکا اور جو نہیں کرتے وہ ان کی مرضی ہے۔میں نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا تو وہ ایک دم سے گھبرا گیا۔ ’’وہ بھی ان کا ذاتی فعل ہے۔ ہمیں اس میں کچھ کہنے یا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سب عورتیں آزاد ہیں۔ وہ جو چاہیں، جہاں چاہیں، جیسا چاہیں کریں۔ کوئی ان سے کیوں پوچھے، کوئی ان کے معاملات میں کیوں مداخلت کرے۔‘‘ میرے دوست کے دلائل جاری تھے۔ اتنے میں وہ ایک لمحے کو رکا اور پھر مجھ سے رازدارانہ انداز میں مخاطب ہوکر بولا۔ ’’مولوی صاحب نہ بنو۔ کیوں ہماری تفریح بند کروانے پر تلے ہو۔‘‘
اس کے جملے پر میں چونکا۔ مطلب تفریح؟ ارے ہاں… یہ سب ہماری تفریح کا سامان ہی تو ہیں۔ تم اتنا دور کی سوچ رہے ہو، میں ایک چھوٹی سی مثال دے کر سمجھاتا ہوں، امید ہے بات سمجھ میں آجائے گی۔ موٹر سائیکل پر جب ہم صدر سے گزرتے ہیں، کتنا رش ہوتا ہے۔ بہت زیادہ، اوپر سے گرمی، نیچے سے گاڑیوں کا دھواں، دماغ ابل رہا ہوتا ہے۔ اس موقع پر ایک بھی بے پردہ خوبصورت سی لڑکی کسی بائیک پر بیٹھی یا گاڑی سے دکھائی دیتی ہے تو تمہیں معلوم ہے وہ گرمی و شدت سب ایک لمحے کو حسین اور ٹھنڈک میں بدل جاتی ہے۔ دل کرتا ہے نہ وہ جائیں، نہ ہم جائیں اور نہ یہ وقت ٹلے۔

او بھائی صاحب! یہ لڑکیاں تو ہمارے تمہارے جیسے گھرانوں کی ہوتی ہیں۔ یہ نہ تو بہت زیادہ لبرل ہوتی ہیں اور نہ ہی اوپن مائنڈ کی۔ پر جو بھی ہوتی ہیں ہمیں تو ان کو دیکھ کر اچھا فیل ہوتا ہے۔ بس جانے دو ان باتوں کو، سب ٹھیک ہے۔ تمہیں شاید معلوم نہیں وہ ہمارے لیے ہی تو بن سنور کر نکلتی ہیں۔ لڑکے کی باتوں نے میرا دماغ گھما دیا تھا۔ کچھ حدتک بات درست بھی تھی۔
میرا رونا تو اپنوں کے رویے پر ہے۔ آپ کی بہن، بیٹی آوارہ لڑکوں کی نظروں سے محفوظ نہیں، تو کیوں نہیں؟ کبھی سوچا یا پھر تنقید پر ہی اکتفا کیا ہوا ہے؟ اس لیے کہ وہ خود کو ظاہر کرکے نکلتی ہے اور پھر ان کو دیکھا جاتا ہے۔ وہ خود ہی چاہتی ہے کہ اسے دیکھا جائے اور اس کا مقصد پورا کرتا ہے باہر والا۔ آپ کو نہیں اچھا لگتا کہ آپ کی بہن کو کوئی دوسرا دیکھے تو کتنوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی جائے، بہتر ہے آپ اپنی بہن بیٹی پر کپڑا ڈال لیں۔ یہ کوئی روشن خیالی نہیں۔ یہ کوئی فیشن یا آزادی نہیں، بلکہ ایک سطحی سی سوچ ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
اسلام نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا، بی بی پردہ کرکے نکلو تاکہ تکلیف نہ دی جائے اور پہچانی جائیں کہ شریف زادی ہیں۔ اسلام نے تو مردوں کو بھی سمجھایا کہ نظروں کو نیچے رکھو۔ عورت مارچ کی آنٹیوں کو نظر انداز کرکے صرف اپنے معاشرے کی طرف نظر دوڑائیں اور اپنے گھر سے شروع کردیں تو بہت کچھ ہے جو کرنے کا ہے۔ مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی۔ گھر کی تربیت ہوگی تو غیر ضروری طور پر گھومتی لڑکیاں بھی نہیں ہوں گی اور ان کو تنگ کرنے والے مرد بھی۔ یاد رکھیں یہ لڑکے اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان ہی بہنوں کے بھائی اور ان ہی ماؤں کے بیٹے ہیں۔ دو طرفہ تربیت کی ضرورت ہے۔ بہن باتہذیب ہوگی تو بھائیوں کو بھی بہنوں کی پہچان ہوگی۔

the author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top