Home >> Breaking News,آئینہ ادب,انداز سخن >> پچھتاوے کا پودا

راضیہ سید

اینا فرینک نے کہا تھا ’کیا وجہ ہے کہ مردہ لوگوں کو زندہ افراد کے مقابلے میں زیادہ پھول ملتے ہیں، قبروں کو باقاعدہ سجایا جاتا ہے اور ان پر آنسو بہائے جاتے ہیں‘ اور پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ پچھتاوا، شکر گزاری کے جذبات سے بہت طاقتور ہوتا ہے۔
ہاں پچھتاوا محبت، نفرت، حسد اور رشک کی طرح ایک جذبہ ضرور ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ ان سب سے زیادہ طاقتور ہے تو غلط نہ ہوگا اور حیرت انگیز طور پر اس جذبے کو طاقتور بنانے میں سراسر ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے۔ ہم زندگی میں ان لوگوں کی تعریف نہیں کرتے جو ہمارے اردگرد ہماری توجہ کے منتظر ہوتے ہیں، لیکن ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی ہمارے دل میں ان کی محبت انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔ ہم ان نعمتوں کا تب تک شکر نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہم سے چھن نہ جائیں اور پھر جب تک ہم ہاتھ ملتے نہ رہ جائیں۔ بلکہ شاید جو ہمارے پاس ہوتا ہے وہی ہمیں کم لگتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں بھی کئی ایسے واقعات نظروں سے گزرتے ہیں جس کے بعد پچھتاوے کا پودا ہمارے ذہنوں میں اگنے لگتا ہے اور ہم اس کی آبیاری کرنے لگتے ہیں۔ ہم بہت عرصے بعد یہ یاد کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیوی کے بنائے ہوئے کھانوں کی کبھی تعریف نہیں کی، اس کے اوڑھنے پہننے کی کبھی ستائش نہ کی، حالانکہ بیوی کی نظریں صرف ایک تعریفی جملے کی منتظر تھیں۔

ہمیں اپنی بہن کی مسکراہٹ کا قرض اتارنا یاد نہیں رہا، شوہر کی ہمت بندھانے کا خیال نہیں آیا، نانا نانی کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں مل پایا یا اپنے اساتذہ کا شکریہ بھی ادا نہیں کرسکے۔ اس سب کے برعکس ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اب ہم ان کی تعریفیں کرنے لگے ہیں۔
میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ ہم اپنے ذہن کو ایک سیاح کی طرح کیوں نہیں بنالیتے؟ جس طرح ایک سیاح ملکوں ملکوں گھومتا ہے، کئی جگہیں اس نے پہلے بھی دیکھی ہوئی ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ ایک نئے زاویے سے زندگی کو دیکھتا ہے، اس کے ذہن میں ماضی کی بازگشت نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے مستقبل کا خوف گھیرے رہتا ہے۔ وہ تو ہر وقت زمانہ حال میں جیتا ہے۔ ہر سرزمین اسے نئی معلوم ہوتی ہے۔ فضاؤں میں خوشبوؤں کو پالیتا ہے اور اپنے آپ میں مگن رہنے لگتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کتنا امیر ہے، اس کا اسے اندازہ ہی نہیں۔ ہم میں سے کسی کو کوئی یہ پیشکش کرے کہ تم اپنی ایک آنکھ مجھے دے دو تو میں تمھیں تین کروڑ دوں گا، تو مجھ سمیت سب اسے پاگل سمجھیں گے اور تب اپنی آنکھ کی قدر و قیمت کا اندازہ بھی ہو گا۔ لیکن جب تک یہ آنکھ ہمارے چہرے پر ہے اور ہم اس کی وجہ سے دلفریب نظاروں سے مالا مال ہیں تب ہمیں وہ پیسے اچھے لگتے ہیں اور ہماری بینائی، اس کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ تم میرا شکر کرو میں تمھیں اور زیادہ نوازوں گا، تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں گا۔‘‘
جیسے جیسے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے لگتے ہیں ہم میں اتنی ہی زیادہ تونگری کا احساس جاگزیں ہونے لگتا ہے۔ ہم اتنے ہی امیر ہونے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو بہت سی نعمتیں بن مانگے عطا کردی ہیں جبکہ ہم اس کا شکر بھی نہیں بجا لاتے بلکہ الٹا شکوے شکایت سے ہی باز نہیں آتے۔

ہم سب نے ایک معیار بنا لیا ہے کہ میرے پاس بڑی گاڑی ہوگی، بے تحاشا دولت ہوگی اور میں خوب سےخوب تر حاصل کرلوں گا، تب میں خوش ہوں گا۔ باقی سب سے مجھے کیا، میں نے تو اپنی خواہشات کو ہر اعتبار سے ہر قیمت پر پورا کرنا ہے، چاہے اس کے لیے مجھے اپنے خاندان، اپنے پیاروں کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
یہی پچھتاوے جو پھر ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں یہیں پر ختم نہیں ہوتے بلکہ یہ ہم میں احساس محرومی کے ساتھ ساتھ بدلے کی آگ کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم منتقم مزاج ہوجاتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ جس طرح ہمارے پیارے ہم سے جدا ہوگئے ہیں دوسروں کو بھی اسی دکھ کا سامنا ہو۔ میں سمجھتی ہوں کہ موجودہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کے پس منظر میں کہیں نہ کہیں یہ پچھتاوا اور انتقام کا جذبہ ضرور ہوتا ہے۔ ہم پچھتاوے کے ذریعے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش بھی کرتے ہیں۔ ہم خود کو سب اچھا ہونے کی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ وقت نے ہمیں موقع نہیں دیا کہ ماں باپ کی خدمت کرسکیں، ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارے بچے یہ چاہتے تھے، کاش مجھے پہلے پتہ ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا، وغیرہ۔
مسائل کہاں نہیں؟ یہ زندگی کا حصہ ہیں، اور ان کی وجہ سے ہی یہ زندگی ہے۔ بڑے بوڑھے تو یہی کہا کرتے تھے، جو ہم نے بھی سنا ہے کہ جب تک انسان ہے تب تک اس کے کام ہیں، جیسے ہی انسان ختم ویسے ہی کام ختم۔
اس لیے زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دنیا کو ایک نووارد کی طرح دیکھیں، ہر دن کو صرف گزاریں نہیں بلکہ جئیں، تاکہ آپ کے تمام رشتے زندہ ہوتے ہوئے آپ سے محبت، تسکین اور اطمینان کے خزانے سمیٹ سکیں۔

the author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top