Home >> Uncategorized,آہنگ غزل >> مشتاق یوسفی کیوں مرے؟

زین شمسی

مشتاق یوسفی پر لکھنا یا مشتاق یوسفی جیسا لکھنا مذاق نہیں ہے
وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے ۔
اسی لٸے مطمٸن ہو کر 94سال میں مرے۔
وہ کچھ بھی لکھ سکتے تھے اور جس کچھ پر لکھتے وہ کچھ سے کچھ ہو جاتا تھا۔
ویسے شاید وہ اس لٸے بھی مر گٸے ہوں گے کہ اب طنز و مزاح نے مخالفت اور دشمنی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
یوں بھی اردو ادب میں طنز مار خاں انگلیوں پر کنے جانے والے رہے ہیں۔ پطرس کنہیا لال کپور فکر تونسوی اور یوسفی میں وہ دم تھا کہ وہ کسی کو بھی بے دم کر سکتے تھے۔
مشتاق احمد یوسفی کو زمانہ دووجہ سےیادرکھے گا
ایک اس لیے کہ وہ کھال میں سے بال نکالتے تھے اور دوسرے اسلٸے کہ جب بال نظر نہیں آتے تھے تو پھر پوری کھال کھینچ لیا کرتے تھے۔
مولویوں کو کنفیوزکرنا تو انکادلچسپ مشغلہ تھا۔ کہیں کسی جگہ انہوں نے لکھا کہ مولوی بیمار نہیں پڑتے ، کیونکہ اول تو وہ ورزش نہیں کرتے ، دوٸم کہ وہ سبزیوں سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔
اب یہ تعریف ہے کہ کیا ہے ، وہ جانیں، خدا جانے یا پھر مولوی جانے۔
ایک جگہ انہوں نے گنڈے تعویذ کرنے والے مولویوں کے بارے میں لکھا کہ لوگ اپنی بیماریوں کا علاج گنڈے تعویذ سے کراتے ہیں ، مجھے ان پر غصہ نہیں آتا ، غصہ تب آتا ہے جب کمبخت وہ ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یوسفی کے مختصر جملے ، مخالفین پر تفصیلی حملے کرتے ہیں
منٹو پہلے مر گیاتھا کہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوٸی لکھ ہی نہیں پاٸے گا۔ یوسفی اطمینان سے تب مرا جب اسے یقین ہوگیا کہ اس پر کوٸی لکھ ہی نہیں پاٸے گا۔

the author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top